افغان طالبان رجیم نے آزادیٔ صحافت کا گلا گھونٹ دیا، افغان جرنلسٹس سینٹرکی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

Calender Icon جمعہ 20 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغان طالبان رجیم کی جانب سے آزادیٔ صحافت کو سخت پابندیوں اور جابرانہ اقدامات کے ذریعے محدود کرنے کے حوالے سے تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ افغان جرنلسٹس سینٹر کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان دور میں صحافیوں پر تشدد، گرفتاریوں اور سخت سنسرشپ نے آزاد صحافت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

قومی یوم صحافت کے موقع پر جاری کی گئی اس رپورٹ میں طالبان حکومت کی جانب سے میڈیا پر عائد پابندیوں کو آزادیٔ اظہار کا قتل قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان سچ کی آواز دبانے کے لیے میڈیا پر قدغنیں، صحافیوں پر دباؤ، تشدد اور سنسرشپ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران میڈیا اور صحافیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 207 واقعات سامنے آئے۔ طالبان کی پالیسیوں کے باعث 21 ٹی وی اسٹیشنز اور 8 میڈیا ادارے بند ہو چکے ہیں جبکہ 10 سے زائد صحافتی لائسنس بھی منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

مزید انکشاف کیا گیا کہ طالبان رجیم نے تصاویر کی اشاعت پر پابندی مزید 18 صوبوں تک پھیلا دی ہے، جس کے بعد یہ پابندی مجموعی طور پر 25 صوبوں میں نافذ ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری میڈیا چینلز کو پروپیگنڈا مشین کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یک طرفہ بیانیہ فروغ دیا جا رہا ہے۔

افغان جرنلسٹس سینٹر کے مطابق صحافیوں کو گرفتار کر کے ان سے جبری اعترافات کروانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے، جبکہ خواتین صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور انہیں پریس کانفرنسز میں شرکت تک سے روک دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم میڈیا اور صحافیوں پر بلاجواز پابندیاں لگا کر نہ صرف اپنی آمریت کو طول دینا چاہتی ہے بلکہ اپنی ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈال کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق کی پامالیاں، میڈیا پر قدغنیں اور شدت پسند عناصر کی سرپرستی اب طالبان حکومت کی پہچان بن چکی ہے، جس کے باعث افغانستان عدم استحکام کا شکار ہو کر ایک ناکام ریاست کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔