لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، جاپان اور کینیڈا کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کے لیے مدد کا پیغام جاری کر دیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بیان میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی دھمکیوں، بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون اور میزائل حملوں اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دیگر کوششوں کو فوری طور پر بند کر دے۔
بیان میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والے کوششوں میں حصہ ڈالنے پر آمادگی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
یہ مشترکہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے نیٹو ممالک کی جانب سے آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے میں واشنگٹن کی مدد سے انکار کو احمقانہ غلطی قرار دیا تھا۔
جاپان کے علاوہ اس مشترکہ بیان کے تمام دستخط کنندگان نیٹو کے رکن ممالک ہیں۔
ان ممالک نے تیل اور گیس کی تنصیبات سمیت تمام بنیادی شہری انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آبنائے ہرمز سے ہونے والی بین الاقوامی جہاز رانی میں ایران مداخلت بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششیں کیا ہوں گی۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں اطالوی وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے کہا کہ یہ جنگی مشن نہیں ہے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن
دوسری طرف انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی او ایم) کا تین روزہ اجلاس آج ختم ہوگیا ہے، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے بھی مذاکرات جلد شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
آئی او ایم کے سربراہ وکٹر جمنیز فرنانڈیز نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی تنظیم اگلے ہفتے ایران اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محفوظ گزر گاہ کے لیے ایک فریم ورک تلاش کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرے گی۔
فرنانڈیز کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی بھی ملک ان مذاکرات سے باہر نہیں ہو گا، پورے خطے کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔












جمعہ 20 مارچ 2026 