لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے پاکستان میں اپنے مختصر دورِ کوچنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کے دوران باہر سے غیر معمولی مداخلت اور بیرونی دباؤ نے ان کیلئے حالات کو خاصا مشکل بنا دیا تھا۔
ایک انٹرویو میں گیری کرسٹن کا کہنا تھا کہ کوچ کیلئے اس وقت مؤثر انداز میں کام کرنا دشوار ہو جاتا ہے جب باہر سے مسلسل شور اور دباؤ موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں کھلاڑیوں کے ساتھ واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد کرانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے، ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل، تادیبی اقدامات، مجموعی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیم توقعات پر پورا نہ اترے تو کوچ کو محدود کر دینا یا اسے تبدیل کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، تاہم گیری کرسٹن کے مطابق یہ رویہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔
سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ اگر کسی کوچ کو ذمہ داری سونپی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔
انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا، دنیا بھر کے کرکٹرز کی طرح پاکستانی کھلاڑی بھی باصلاحیت اور پیشہ ور ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا ایک مثبت تجربہ تھا۔
گیری کرسٹن نے مزید کہا کہ اگرچہ زبان کا فرق موجود تھا، تاہم کرکٹ ایک ایسی زبان ہے جو سب کو جوڑتی ہے اور میدان میں بہتر رابطے میں مدد دیتی ہے۔












اتوار 22 مارچ 2026 