اسلام آباد(نیوزڈیسک)صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب آصف علی زرداری کا یوم پاکستان 23 مارچ 2026 کے موقع پر پیغام میں یوم پاکستان کے موقع پر پوری پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج ہی کے دن 1940 میں برصغیر کے مسلمانوں نے قرارداد پاکستان منظور کی اور ایک علیحدہ وطن کے قیام کا نظریہ پیش کیا جہاں وہ اسلامی اقدار کے مطابق آزادانہ طور پر اپنی زندگی گزار سکیں۔ آج ہم اپنے بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔یوم پاکستان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی عزم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اتحادویکجہتی سب سے اہم عنصر ہے۔ 1947 میں قیام پاکستان کے وقت ہمیں بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے باہمی تعاون، محنت اور صلاحیت کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پایا اور ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ہم نے ریاستی ادارے قائم کیے، اپنی دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بنایا، جوہری دفاعی صلاحیت حاصل کی، دہشت گردی کے خلاف طویل اور کامیاب غیر روا یتی جنگ لڑی اور قدرتی آفات کے دوران ایثار اور باہمی تعاون کی روشن مثالیں قائم کیں۔گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کے دوران ہم نے دشمن کی جارحیت کا بے خوفی سے مقابلہ کیا اور اسے ایسا سبق سکھایا جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔ آج بھی ہمیں داخلی محاذ اور بیرونی سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ بُنیانُ المّرصوص کی طرح آپریشن غضب للحق نے بھی نمایاں اور مطلوبہ نتائج حاصل کیے ہیں۔ افغانستان پر غیر قانونی مسلط ٹولے کو ہمارا واضح پیغام ہے کہ ہم فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان یا کسی بھی دوسرے گروہ کو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا موقع نہیں دیں گے۔ ہم دہشت گردی کی سرپرستی اور بھارت یا اس کے گماشتہ عناصر کے ذریعے اپنے امن اور پرامن بقائے باہمی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کی بھی مکمل بیخ کُنی کریں گے تا کہ ہماری بستیاں اور سرحدیں محفوظ ہوں۔بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں، ہندوتواکی سرپرستی اور بھارت میں بالخصوص مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا نارواسلوک اس بات کا ثبوت ہے کہ قائداعظم اور مسلم قیادت کا علیحدہ وطن کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ تھا۔ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈہ ہے۔ ہم عالمی برادری سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق انہیں خودارادیت کا حق دلوانے کے لیے بھارت پر زور دے۔ عالمی برادری کو آگے بڑھ کر ہمارے فلسطینی بھائیوں پر ہونے والے مظالم کا بھی خاتمہ کرنا ہو گا جو مسلمہ دو ریاستی حل اور پُرامن بقائےباہمی کے تحت باوقار اور پُرامن زندگی گزارنے کے حق دار ہیں۔ اسی طرح ہم مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں۔یوم پاکستان کے موقع پر ہمیں یہ عزم کرنا ہو گا کہ ہم قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں، عدم مساوات کو کم کریں، خواتین کو بااختیار بنائیں، سیاسی و معاشی استحکام کو فروغ دیں اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے ناسور کا خاتمہ کریں۔ ہم ماضی میں اپنے اہداف حاصل کرتے آئے ہیں اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز پر بھی قابو پانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم وہ روشن اصول ہیں جن پر کاربند ہو کر ہم پاکستان کو اور بھی مضبوط اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔آیئے اپنے قومی ہیروز، قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کی خاطر قربانیاں دینے والے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کریں جنہوں نے مادر وطن کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ الّلہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو
یوم پاکستان پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، صدر مملکت
اتوار 22 مارچ 2026












