امریکہ،ایران خفیہ رابطے، ثالثی میں پاکستان، ترکیہ اور مصر سرگرم، ذرائع

Calender Icon پیر 23 مارچ 2026

واشنگٹن(ویب ڈیسک)ایران، اسرائیل اورامریکہ جنگ میں اچانک ایک نیا اور اہم موڑ آ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اعلان کیا ہے جس کے تحت ایران کے ایٹمی اور پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں جس کے بعد عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں 10 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات بھی شروع ہو گئے ہیں جبکہ ایرانی حکومت نے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کیا ہے تاہم عالمی میڈیا کے مطابق براہ راست نہیں بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ پاکستان ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے رابطوں کے بعد امریکی صدر کے معاون خصوصی سٹیوٹ کاف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی میں رابطے ہوئے ہیں اور ان رابطوں کے نتیجے میں کچھ مثبت خبریں بھی سامنےآئی ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر نے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر 48 گھنٹوں میں ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو پھر خطرناک حملے کیے جائیں گے جس کے جواب میں ایران نے ایک اہم اعلان کیا جس کے تحت خلیجی ممالک میں جتنے بھی پاور پلانٹس ہیں ان پر حملے کرنے کی دھمکی دی جس کے بعد اس بات کا خدشہ تھا کہ وہاں حملے ہونے کی صورت میں پانی کی سپلائی خلیجی ممالک میں بند ہو جائے گی تو اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے امریکی صدر نے ایک اہم اعلان کیا اور کہا کہ انہوں نے امریکہ کے وزیر جنگ جنہیں ماضی میں وزیر دفاع کہا جاتا تھا کو حکم دے دیا ہے کہ ایران پر5 دن کے لیے ان جگہوں پر حملے نہ کیے جائیں جہاں پر ایٹمی اور پاور پلانٹس موجود ہیں ۔اس خبر کے جاری ہوتے ہی عالمی سطح پر مثبت رد عمل سامنے آیا۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی خیر مقدم کیا اور روس کے طرف سے بھی اعلان کیا گیا ہے کہ ہم یہی کہتے تھے کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔