واشنگٹن (ویب ڈیسک)ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالیباف کریں گے جبکہ امکان ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز نے امریکی ویب میگزین ایکزیوس کے رپورٹر بارک روید کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے خبر دی کہ امریکا اور ایران مذاکرات پاکستان ترکیے اور مصر کی سہولت کاری میں ہوئے ہیں۔بارک روید نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، ترکیے اور مصر کے حکام کوششیں کر رہے ہیں، یہ تینوں ممالک امریکا اور ایران کے حکام سے رابطے کر کے ان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مصالحت کروانے والے ملک چاہتے ہیں کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کی ایرانی اسپیکر باقر غالیباف کی قیادت میں ایک ایرانی وفد سے ملاقات کروائی جائے۔ اس سے پہلے بارک روید کی ابتدائی پوسٹ کے مطابق ترکیے، مصر اور پاکستان کے حکام نے اسٹیو وٹکوف اور عباس عراقچی سے الگ الگ پیغامات کا تبادلہ کیا۔
بارک روید نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے مزید لکھا کہ اسرائیلی حکام اس بات سے تو باخبر ہیں کہ کئی ممالک ایران اور امریکا میں بات چیت کے لیے کوشاں ہیں، لیکن وہ ٹرمپ کے ان الفاظ پر حیران ہیں کہ ان رابطوں میں پیشرفت ہو رہی ہے اور 15 نکات پر بظاہر اتفاق بھی ہوچکا ہے۔












پیر 23 مارچ 2026 