واشنگٹن: (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں کمی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر “بہت اچھی بات چیت” ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں بھی اطمینان پیدا ہوا ہے۔امریکی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون خصوصی سٹیوٹ کوف ایران کے ساتھ مجوزہ مذاکرات کے لیے پاکستان کے دورے پر جائینگے جہاں براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اخبار نے ایڈیٹر پولیٹیکل سٹی ون سندھ فورٹ اور ڈیوڈ چارٹر کی طرف سے فائل کی گئی خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اچانک یہ اعلان کیا کہ ایران کے پاور پلانٹس پر حملے روک دیے جائیں اور یہ بھی کہا کہ بہت اچھی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اس حوالے سے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم تاحال کسی اہم ایرانی شخصیت کی شرکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ادھر صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سخت انتباہ دیا تھا اور ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی، تاہم اب انہوں نے مؤقف میں نرمی دکھاتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا بطور ثالث کردار خطے میں سفارتی اہمیت کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔اور اب جنگ ختم ہو سکتی ہے۔ اخبار کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات کرانے کی کوشش ہو رہی ہے جس کے لیے سٹیوٹ کاف بہت جلد اسلام آباد جائینگےاس میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے لیکن ابھی تک ایران کی طرف سے کوئی ٹھوس اور واضح جواب نہیں دیا گیا۔
امریکی خصوصی ایلچی سٹیوٹ کوف مذاکرات کیلئے پاکستان جائینگے
منگل 24 مارچ 2026












