اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے سنگل اور ڈویژنل بینچ کے احکامات کالعدم قرار دے دیتے ہوئے ہائی کورٹ کو قانون کے مطابق دوبارہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق توہین عدالت کی کارروائی میں فردِ جرم سے قبل ابتدائی سماعت لازمی ہے، مبینہ توہین کنندہ کو ابتدائی سماعت میں صفائی کا موقع دینا لازمی قانونی تقاضا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے ابتدائی سماعت کا موقع دیے بغیر براہِ راست فردِ جرم کی تاریخ مقرر کی، ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے بھی قانونی سقم کو نظر انداز کیا، عدالت ابتدائی سماعت کے بعد مطمئن ہو تو ہی فردِ جرم عائد کرسکتی ہے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا رہے گی۔
واضح رہے کہ سول کیس میں عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی، ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے ضابطے کی کارروائی مکمل کیے بغیر فردِ جرم کے لیے تاریخ مقرر کر دی، جس کے بعد درخواست گزار نے سنگل بینچ کے فیصلے کو ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ میں چیلنج کیا۔
ڈویژنل بینچ نے قانونی سقم دور کرنے کے بجائے اپیل نمٹا کر فریقین کو دوبارہ سنگل بینچ بھیج دیا۔ اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے دونوں بینچز کے طریقہ کار کو قانون کی غلط تشریح قرار دیا۔












بدھ 25 مارچ 2026 