سرکاری بھرتیوں میں شفافیت لازمی، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ

Calender Icon بدھ 25 مارچ 2026

اسلام آباد: (نیوزڈیسک)وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی سلیکشن کمیٹیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بھرتیوں کا عمل قانون کے مطابق ازسرِنو شروع کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ عمل 60 روز کے اندر مکمل کر کے اس کی رپورٹ رجسٹرار کو پیش کی جائے۔
تفصیلی فیصلہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ سرکاری ملازمتوں پر تقرریاں صرف ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ ہر اہل شہری کو مساوی بنیادوں پر سرکاری نوکری کے لیے مقابلے کا حق حاصل ہے، اس لیے بھرتیوں میں شفافیت اور انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اگر کسی افسر کی جانب سے غفلت یا بدانتظامی سامنے آئے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بھرتیوں کے عمل میں کسی قسم کی جانبداری یا بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
خصوصی طور پر نائب قاصد، خاکروب اور چوکیدار جیسی اسامیوں کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ان تقرریوں میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے لیے سخت تعلیمی شرائط نہیں ہوتیں، اس لیے موزوں امیدوار کا انتخاب نہ کرنا عوامی امانت میں خیانت کے مترادف ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ ڈسٹرکٹ اسپتال کرک میں 2022 میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق تھا، جہاں سلیکشن کمیٹی کی سفارشات کے باوجود پشاور ہائیکورٹ نے تقرریوں کو روک کر شفاف طریقہ کار اختیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔