ایپسٹین اسکینڈل: متاثرین کے ہولناک انکشافات اور انصاف کی تلاش

Calender Icon جمعرات 26 مارچ 2026

امریکا کی مشہور مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے متاثرین نے برسوں بعد خاموشی توڑتے ہوئے اپنے تجربات عوام کے سامنے لائے، جنہوں نے بتایا کہ جنسی استحصال کے اثرات آج بھی ان کی زندگیوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویوز میں متعدد خواتین نے پہلی بار اپنی داستانیں بیان کیں اور کہا کہ ایپسٹین کی 2019ء میں موت کے بعد بھی کئی سوالات آج تک بے جواب ہیں۔
متاثرہ خاتون جوانا ہیریسن نے بتایا کہ وہ 18 سال کی عمر میں مساج کے بہانے ایپسٹین سے ملی، جہاں انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایپسٹین کی موت کے بعد انصاف کی امیدیں مزید کم ہو گئی ہیں اور کئی سوالات ہمیشہ کے لیے ادھورے رہ گئے۔
ایک اور متاثرہ خاتون شونٹے ڈیوس نے انکشاف کیا کہ وہ ایپسٹین کے نجی طیارے کے ذریعے افریقہ کے دورے پر گئیں، جہاں بل کلنٹن، کیون اسپیسی اور گھسلین میکس ویل بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ ایک یادگار سفر تھا، مگر حقیقت میں ہونے والے واقعات اسے خوفناک بنا گئے۔
ڈیوس کے مطابق انہیں ایپسٹین کے نجی جزیرے پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور ان کے سب سے تاریک لمحات نیو میکسیکو کے ایک فارم ہاؤس میں گزرے۔
متاثرہ خاتون لیزا فلپس نے بتایا کہ ایپسٹین اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کو لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا، اور وہ متاثرین کی آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند کرتا تھا۔
وینڈی پیسانتے نے کہا کہ وہ صرف 14 سال کی عمر میں ایپسٹین کے رابطے میں آئیں اور کم عمری میں ہونے والا استحصال ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔
یاد رہے کہ 2019ء میں جیفری ایپسٹین نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے، جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا، تاہم متاثرین نے اس پر شک کا اظہار کیا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کیس کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ انصاف کا قیام ممکن ہو سکے۔