ماسکو: (ویب ڈیسک) روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کے حل سے متعلق ممکنہ معاہدے کا تاحال کوئی مسودہ تیار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے روس کے ساتھ کوئی مشاورت کی گئی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں یوری اوشاکوف نے بتایا کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان فلوریڈا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے نتائج سے روسی فریق کو آگاہ کر دیا گیا ہے، ان کے مطابق یہ مذاکرات یوکرین بحران کے حل کے لیے جاری سہ فریقی عمل کا تسلسل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت یوکرین کے حوالے سے سہ فریقی مذاکرات “واضح وجوہات” کی بنا پر تعطل کا شکار ہیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق ممکنہ امن معاہدے کے متن کے بارے میں روس کو کوئی معلومات نہیں، کیونکہ نہ تو کسی نے اس کا مسودہ تیار کیا ہے اور نہ ہی اسے روس کے ساتھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزین نے بھی سہ فریقی مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے کوئی پیشگوئی کرنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تمام فریق تیار ہوں گے تو سفارتی عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
قبل ازیں روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ یوکرین کے حوالے سے ہر رابطہ پیش رفت کی جانب ایک قدم ہے، بشرطیکہ اس میں روس کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیف حکومت مذاکرات سے گریز کرتی رہی اور جنگ جاری رکھی تو اسے مستقبل میں مزید سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوکرین مذاکرات تعطل، کسی معاہدے کا مسودہ تیار نہیں : یوری اوشاکوف
جمعرات 26 مارچ 2026












