نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت میں حکمران جماعت **بی جے پی** کو نئی سیاسی کشیدگی کا سامنا ہے، جس کی وجہ وزیراعظم **نریندر مودی** کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے تازہ الزامات اور ملک میں نافذ نئے **پرائیویسی قوانین** ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی کی غیر شفاف حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے مزید وضاحت کا مطالبہ کیا ہے، جس سے پارٹی کے اندر کھچاؤ اور عوامی بحث میں اضافہ ہو گیا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی اپسٹین فائلز دستاویزات میں عالمی رہنماؤں کے الزامات نے بھارتی اپوزیشن کو سیاسی محاذ مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ آزاد میڈیا اور شفافیت کے علمبرداروں نے نئے پرائیویسی قوانین کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین عوامی رسائی اور اعتماد کو محدود کر سکتے ہیں، جس سے بی جے پی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پارٹی اندرونی طور پر مختلف حلقوں اور عوامی توقعات کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مشکلات محسوس کر رہی ہے، اور اپوزیشن مسلسل حکومتی پالیسیوں اور شفافیت کی کمی پر سوال اٹھا رہی ہے۔
یہ کشیدگی بھارت کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مزید غیر یقینی پیدا کر رہی ہے اور آئندہ انتخابات اور حکومتی پالیسیوں پر اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔












جمعرات 26 مارچ 2026 