تہران (ویب ڈیسک)ایران میں بوشہر جوہری بجلی گھر کے فعال یونٹ نمبر 1 کے انتہائی قریب فضائی حملے پر روسی وزارتِ خارجہ کا بیان ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان یقین دہانیوں کے باوجود، جن کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، کہ انہوں نے 23 مارچ کو ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا حکم دیا تھا، 24 مارچ کو بوشہر جوہری بجلی گھر کے فعال یونٹ نمبر 1 کے انتہائی قریب ایک نیا اور نہایت خطرناک فضائی حملہ کیا گیا۔ہم اس جارحانہ طرزِ عمل کے تحت کیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدام پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حملہ آور دانستہ طور پر خطے میں ایک بڑے جوہری سانحے کو جنم دینا چاہتے ہیں تاکہ اپنے ان مجرمانہ اقدامات پر پردہ ڈال سکیں اور ان کے لیے جواز تراش سکیں ، جن کے نتیجے میں ایران میں پہلے ہی متعدد شہری ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔واشنگٹن اور مغربی یروشلم کو کسی بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے، کیونکہ بوشہر جوہری بجلی گھر پر کسی بھی حملے کے نتیجے میں ایسے انسانی اور ماحولیاتی اثرات ناگزیر ہوں گے جن کی تلافی ممکن نہ ہوگی۔ اب تک محض خوش قسمتی ہی سے ایک بڑے سانحے سے بچاؤ ممکن ہو سکا ہے۔ تاہم فضائی حملے فعال ری ایکٹر یونٹ کے مزید قریب کیے جا رہے ہیں۔ جوہری بجلی گھر کے عملے، بشمول روسی ماہرین، کی زندگیاں مسلسل خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ صورتِ حال ہمارے لیے قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران پر غیر ذمہ دارانہ اور بلا اشتعال حملے کرنے والے ہوش کے ناخن لیں، اپنی جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کریں، اور ایران کے اُس جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی ترک کریں جو آئی اے ای اے کے جامع حفاظتی معاہدے کے تحت قائم ہے، نیز ان تنصیبات کے قرب و جوار میں واقع مقامات پر حملے بھی بند کریں۔ہم توقع کرتے ہیں کہ آئی اے ای اے، اقوامِ متحدہ اور ان کی قیادت اس طرح کے مزید حملوں کو روکنے کے لیے ایک واضح، دوٹوک مؤقف اختیار کرے گی اور مؤثر اقدامات کرے گی۔
بوشہرپر حملہ خطے کو بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے: روس
جمعرات 26 مارچ 2026 مزید خبریں
تازہ ترین
خلیج جنگ پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے، طیب اردوان
1 گھنٹے قبل












