شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے حملوں کے بعد شہری زندگی متاثر، میئر لائیو انٹرویو میں جذباتی

Calender Icon جمعہ 27 مارچ 2026

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد اور مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں شمالی اسرائیل میں صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔ مقامی نمائندوں نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
شمالی اسرائیلی شہر مارگالیوت کے میئر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جذباتی انداز اختیار کیا اور کہا کہ حزب اللہ کے حملوں سے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ روتے ہوئے انہوں نے کہا: “ہر چیز تباہ ہو چکی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اسرائیل کی حمایت کے لیے تیار نہیں نظر آتا۔”
میئر نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اسرائیل نے اپنی سکیورٹی لبنان کے حوالے کر دی ہو، اور مقامی آبادی خود کو تنہا محسوس کر رہی ہے، جبکہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی نہیں دکھائی دیتی۔
اسی طرح کیرت شمونہ کے میئر نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بتایا کہ شہر تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق دو تہائی شہری اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں اور اگر صورتحال برقرار رہی تو مزید لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل میں بڑھتی ہوئی بے چینی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، اور جاری کشیدگی نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔