خیبر پختونخوا حکومت نے پبلک سروس کمیشن ایکٹ میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا ترمیمی مسودہ تیار کر لیا ہے۔
ترمیمات کا مقصد کمیشن کی تشکیل میں گورنر کے اختیارات واپس لے کر انہیں وزیراعلیٰ کے پاس منتقل کرنا ہے۔ نئے مجوزہ ایکٹ کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے ارکان کے چناؤ اور کام کاج کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے ماتحت ہوگی۔
موجودہ ایکٹ کے تحت ارکان کے انتخاب کے لیے سرچ اینڈ اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے، جو چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کام کرتی ہے اور اپنی تجاویز گورنر اور وزیراعلیٰ کو پیش کرتی ہے۔ ترمیمی مسودے کے تحت اب ارکان اپنے استعفے گورنر کو دینے کے بجائے حکومت کو دیں گے، اور کمیشن کی رپورٹ براہِ راست صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی، جو بعد میں اسمبلی میں بھی پیش کی جائے گی۔
یہ قدم صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ پبلک سروس کمیشن کے عمل کو مزید شفاف اور صوبے کے اختیارات کے تحت مؤثر بنایا جا سکے۔
کے پی حکومت کا گورنر سے اختیارات واپس لینے کے لیے پبلک سروس کمیشن ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ
جمعہ 27 مارچ 2026












