امیر جماعت اسلامی کراچی، منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کل کراچی میں درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گھومتے رہے، مگر گل پلازہ جیسے سانحے کے بعد کراچی آنے کی زحمت محسوس نہیں کی گئی۔
نور حق ادارہ میں پریس کانفرنس کے دوران منعم ظفر خان نے کہا کہ جب صوبائی اور وفاقی حکومتیں کراچی کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں، تو شہر کو بااختیار شہری حکومت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کراچی میں ٹریفک حادثات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یکم جنوری سے مارچ تک 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 86 افراد ڈمپرز کے باعث ہلاک ہوئے۔ منعم ظفر نے کہا کہ ہیوی ٹریفک میں سینسر لگانے کے دعوے تو کیے گئے مگر آج تک کسی ڈمپر میں سینسر نصب نہیں کیے گئے، جبکہ شہر میں ٹرالرز، ڈمپرز اور واٹر ٹینکرز بے قابو پھر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہیوی ٹریفک کے لیے متبادل راستے مقرر کیے جائیں۔
اسٹریٹ کرائم میں اضافے پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بہادرآباد میں میڈیکل کالج کی طالبات کو لوٹا گیا۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں مقامی پولیس کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔
صفائی کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر شہر میں جگہ جگہ کچرا موجود تھا۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے خود تسلیم کیا کہ تین دن تک شہر سے کچرا نہیں اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کراچی کو اختیارات دینے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
منعم ظفر نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کراچی میں “پڑھو پڑھاؤ” مہم شروع کر رہی ہے، جس کے تحت والدین کو کتابیں فراہم کی جائیں گی، 15 مقامات پر کیمپ لگائے جائیں گے اور گھر گھر جا کر پرانی کتابیں جمع کر کے مستحق بچوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ یہ مہم 20 اپریل تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جائے گی۔
انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ہر حکومت کا حصہ بن کر کراچی کے مفادات کا سودا کرتی رہی ہے اور چوک میں بیٹھ کر اپنی قیمت لگواتی ہے۔ ان کے مطابق 16 سال ایم کیو ایم کا گورنر رہا، مگر اب ایم کیو ایم کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔
وزیر اعظم شہر میں شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ گھومے، گل پلازہ پر آئے بغیر رہ گئے، منعم ظفر
جمعہ 27 مارچ 2026












