محفوظ و مضبوط پاکستان: سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کے لیے اب ایک پرکشش مرکز

Calender Icon جمعہ 27 مارچ 2026

بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان نہ صرف نیٹ سیکیورٹی کے لحاظ سے مستحکم ملک بن چکا ہے بلکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے۔ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ سمیت پاکستان کی تمام بڑی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان انڈیکس کے مطابق، گزشتہ 24 دنوں میں کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ کی شرح میں ایسا اضافہ ہوا جو پورے سال 2025 کے برابر ہے۔ سال 2025 میں کراچی پورٹ پر تقریباً 8,300 کنٹینرز کی ترسیل ہوئی، جبکہ صرف گزشتہ 24 دنوں میں 8,313 کنٹینرز کے برابر سامان ہینڈل کیا گیا۔ عرب نیوز کے مطابق، خلیجِ عرب میں شپنگ رکاوٹوں کی وجہ سے روٹس میں تبدیلی سے پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان نے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قواعد میں ترمیم کر کے سمندری اور فضائی بندرگاہوں پر کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی ہے۔ عرب نیوز ٹریڈ کرونیکلز کے مطابق، جنوبی ایشیا پاکستان ٹرمینل نے 5,286، ہچیسن پورٹ نے 1,827، اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل نے 1,200 کنٹینرز کی ترسیل اور کارروائی مکمل کی۔
عالمی ماہرین کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے پاکستان کے لیے ٹرانس شپمنٹ کا مستقل مرکز بننے کا سنہری موقع پیدا کیا ہے۔ دنیا کے نزدیک پاکستان اب ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں تجارتی سرگرمیاں بلا رکاوٹ انجام دی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں مضبوط سیاسی اور اقتصادی استحکام، قیادت کی حکمت عملی، سی پیک کے وسیع مواقع، اور جدید انفراسٹرکچر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نئی بلندیوں تک لے جا رہے ہیں۔ یہ سب عوامل پاکستان کو خطے میں تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کر رہے ہیں۔
نتیجتاً، پاکستان اب محفوظ، مستحکم اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرا ہے۔