گلوبل ساؤتھ کی قیادت کا دعویٰ بے نقاب، مودی حکومت کی معاشی کمزوریاں سامنے آگئیں

Calender Icon ہفتہ 28 مارچ 2026

اسلام آباد (طارق محمود سمیر) نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کو سفارتی اور دفاعی چیلنجز کے بعد اب تجارتی میدان میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس پر تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
خود کو “گلوبل ساؤتھ” کی قیادت کا دعویدار قرار دینے والا بھارت اہم معاشی معاملات میں بڑی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے باعث اس کی ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بھارتی جریدے دی وائر نے اپنی رپورٹ میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کی حالیہ کانفرنس میں بھارت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کانفرنس سے کوئی نمایاں کامیابی حاصل کیے بغیر واپس لوٹا۔
جریدے کے مطابق بھارت نے ڈیجیٹل تجارت سے متعلق امریکی مؤقف، یعنی ڈیجیٹل مواد پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگانے کی شرط، قبول کرنے کا عندیہ دیا۔ اسی طرح سرمایہ کاری سہولت سے متعلق معاہدے پر بھی بغیر مزاحمت آمادگی ظاہر کی گئی۔
مزید یہ کہ خوراک کے سرکاری ذخائر کے معاملے پر بھی بھارت کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا، جسے ناقدین کسانوں کے مفادات کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
علاقائی اور عالمی سیاست کے تناظر میں بھی مودی حکومت کو تنقید کا سامنا ہے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں بھارت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارتی معیشت کو اس وقت توانائی کے مسائل، کرنسی پر دباؤ اور ترسیلاتِ زر میں کمی جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث بھارت کے ایک بڑی اقتصادی طاقت بننے کے دعوے کو دھچکا پہنچا ہے۔