ارتھ آور 2026: اسلام آباد ہائی کورٹ کی شہریوں سے ماحولیاتی تحفظ کی اپیل

Calender Icon ہفتہ 28 مارچ 2026

ارتھ آور 2026 کے موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملک بھر کے شہریوں، اداروں اور قانونی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے متحد ہوں اور عملی اقدامات کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 2023 سے 2025 تک دنیا کے سب سے گرم سال ریکارڈ کیے گئے، جو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کی واضح نشانی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ نسل پر ماحول کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا قانونی طور پر لازمی ہے۔ عدالت نے ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی گرین بنچ قائم کر رکھا ہے جو نباتات اور حیوانات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل اسلام آباد میں مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے سرگرم عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تاریخی فیصلے دیے ہیں، جن میں شیلا ضیا کیس اور مونال ریسٹورنٹ کیس نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے تحفظ کے لیے غیر قانونی کان کنی، جنگلات کی کٹائی اور تجاوزات کے خلاف سخت احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فضائی آلودگی میں کمی، ویسٹ مینجمنٹ میں بہتری اور صنعتی آلودگی کے خاتمے کے لیے عدالت مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ فضلہ کم کریں، درخت لگائیں، پانی محفوظ بنائیں اور پائیدار طرزِ زندگی اپنائیں۔
مہم کی حمایت میں چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ 28 مارچ 2026 کو رات 8:30 سے 9:30 بجے تک عدالت کی عمارت کی روشنیاں بند رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہر چھوٹا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ آئیں، مل کر صاف، سرسبز اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کریں۔