ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے Nuclear Non-Proliferation Treaty (این پی ٹی) سے علیحدہ ہونے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جسے خطے اور عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایران کو اس معاہدے میں برقرار رہنا چاہیے یا نہیں۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں این پی ٹی میں رہنے کا جواز کمزور ہو چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ فیصلے کا ایک مقصد یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ International Atomic Energy Agency کے معائنہ کاروں کے ذریعے مبینہ جاسوسی کو روکا جا سکے، جس کا الزام ایران امریکا اور اسرائیل پر عائد کرتا رہا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ عالمی ادارے اس پر مؤثر ردعمل دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران این پی ٹی سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو اس کے عالمی سلامتی، سفارتکاری اور خطے کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
ایران کا این پی ٹی سے علیحدگی پر غور، اہم پیش رفت
اتوار 29 مارچ 2026












