پی ایس ایل 11 تماشائیوں کے بغیر، پی سی بی کو بڑے مالی نقصان کا خدشہ

Calender Icon اتوار 29 مارچ 2026

کراچی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ سال شائقین کی موجودگی سے اسٹیڈیمز میں تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی، جو اب اس ایڈیشن میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق، ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کیا جاتا ہے، جسے پی سی بی خود منظم کرتا ہے۔ اس پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔
ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت کی جاتی ہے، جس میں پی سی بی تقریباً 5 فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے، جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، پی ایس ایل 8 (2023) میں مجموعی آمدنی تقریباً 5.62 ارب روپے رہی، جس میں سے پی سی بی کو تقریباً 58 کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم فرنچائزز میں تقسیم ہوئی۔ ہر ٹیم کو اس وقت اوسطاً 84 کروڑ روپے کا حصہ ملا تھا۔
چونکہ گیٹ منی (ٹکٹ کی آمدنی) بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے اس بار شائقین کی غیر موجودگی کا اثر تمام ٹیموں پر یکساں پڑے گا۔ پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس نقصان کو خود برداشت کرے گا، تاہم میچز کا ماحول شائقین کے بغیر متاثر ہوگا، جسے پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہ اقدام اگرچہ مالی نقطہ نظر سے نقصان دہ ہے، لیکن بورڈ نے کفایت شعاری اور عوامی مفاد کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے، تاکہ لیگ کی روایتی کامیابی اور پاکستان میں کرکٹ کی مقبولیت برقرار رہے۔