ماسکو(ویب ڈیسک)عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان روس نے پیٹرول کی برآمدات عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے کئی ممالک میں سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارتِ توانائی کو باقاعدہ مسودہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک کے اندر پیٹرول کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ نوواک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق روس یومیہ 1 لاکھ 20 ہزار سے 1 لاکھ 70 ہزار بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے، اور اس پابندی سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور جیسے بڑے خریدار ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت پر اس فیصلے کا اثر نسبتاً کم متوقع ہے کیونکہ وہ زیادہ تر خام تیل درآمد کرتا ہے۔
روسی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ریفائنریز مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جس سے مقامی طلب باآسانی پوری کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی روس کی جانب سے اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، جن کا مقصد مقامی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا تھا، تاہم اس بار اس فیصلے کے عالمی اثرات زیادہ نمایاں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
توانائی بحران مزید سخت، روس نے دنیا بھر کو پیٹرول فراہمی بند کردی
اتوار 29 مارچ 2026












