اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خلیجی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران نے بھارت میں گیس کی شدید قلت کو جنم دے دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق بھارت میں ایل پی جی کی شدید کمی اور قیمتوں میں اضافے نے مزدور طبقے کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیس کی قلت کے باعث فوڈ اسٹال مالکان کو متبادل ایندھن استعمال کرنے یا اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ دہلی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور مزدور طبقہ روزگار نہ ہونے کے باعث اپنے گھروں کو واپس جانے پر مجبور ہے۔
جریدے کے مطابق مینوفیکچرنگ سمیت دیگر معاشی شعبے بھی اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں صنعتوں کو خام مال کی قلت اور بڑھتی قیمتوں کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مہنگے گیس سلنڈرز کے باعث شہری گھریلو اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں، جس سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب ذخائر موجود نہیں، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جبکہ نریندر مودی کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔












پیر 30 مارچ 2026 