لندن (نیوز ڈیسک) برطانوی پارلیمنٹ میں افغان طالبان کے سیاسی و سماجی مخالفین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں طالبان رجیم کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تنقید کی گئی۔
اجلاس کا اہتمام ویمن فار افغانستان فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا، جس میں بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں، ماہرین اور کارکنان نے شرکت کی اور افغانستان میں موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں جاری اعلامیے کے مطابق افغان طالبان نے مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے سیاسی و سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ طاقت کے بے جا استعمال اور بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق پر قدغنوں نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ افغانستان میں بگڑتی انسانی و اقتصادی صورتحال، بڑھتی غربت اور عوامی مشکلات طالبان حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہیں۔
اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان کے مستقبل کا سیاسی نظام عوام کی مرضی، جامع شمولیت اور جدید آئینی ڈھانچے پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ ملک میں استحکام اور ترقی ممکن ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق داخلی مزاحمتی تحریکیں اور بیرونِ ملک احتجاج طالبان کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ردعمل اور عوامی حمایت میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔












پیر 30 مارچ 2026 