اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت کے دوران مقتولہ کی والدہ نے تفصیلی بیان ریکارڈ کروا دیا۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں ہوئی۔
پراسیکیوٹر نوید حسین عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسٹیٹ کونسل نے ثناء یوسف کی والدہ پر جرح کی۔
ثناء یوسف کی والدہ نے عدالت میں بیان دیا کہ میں اور ثناء کی پھوپھو واقعے کے وقت گھر پر موجود تھیں، گھر کرائے کا ہے اور ہم 3 مہینے سے وہاں رہائش پزیر تھیں، وقوعہ 2 جون کو شام تقریباً 5 بجے ہوا، موسم گرم تھا اور اندھیرا نہیں تھا۔
ثناء یوسف کی والدہ نے کہا کہ ملزم عمر حیات کے وقوعے سے قبل آنے یا واٹس ایپ پر رابطے کا علم نہیں تھا، واقعے کے وقت میں ٹی وی لاؤنج میں موجود تھی اور میں نے ثناء یوسف کے والد کو کال کر کے اطلاع دی، بعد ازاں میں خود ثناء یوسف کو اسپتال لے کر گئی۔
مقتولہ کی والدہ نے بتایا کہ قتل کے وقت چیخ و پکار کے بعد نیچے پورشن کے ہمسائے باہر نکل آئے اور اہلِ محلہ گلی میں اکٹھے ہو گئے تھے، ملزم عمر حیات نے وقوعہ کے وقت اپنا چہرہ نہیں ڈھانپا تھا اور شناخت پریڈ میں اسے پہچان لیا گیا، اس وقت وہ بلیک شرٹ اور نیلا ٹراؤزر پہنے ہوئے تھا۔
ثناء یوسف کی والدہ کا کہنا ہے کہ شناخت پریڈ سے قبل میں نے عمرحیات کو سوشل میڈیا یا ٹی وی پر نہیں دیکھا تھا، پولیس نے ملزم کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی مگر اس کا حلیہ نہیں بتایا تھا۔












پیر 30 مارچ 2026 