پاکستان کی معیشت میں با اثر اصلاحات اور کامیاب سفارتکاری کے مثبت آثار نمایاں

Calender Icon پیر 30 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی معیشت میں حالیہ اصلاحات اور فعال سفارتکاری کے باعث مثبت آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس سے ملک ایک بااعتماد اور مستحکم معاشی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں متحرک ہے، جس کے مثبت اثرات معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور معاشی اصلاحات کے نتیجے میں بہتری کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر مسلسل 33 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 21.7 ارب ڈالر کی چار سالہ بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

خرم شہزاد کے مطابق ایندھن کے ذخائر میں بہتری کے باعث ان کی دستیابی کی مدت 3.5 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 4 ہفتوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک سال کی بلند ترین سطح پر ہے، جو بیرونی شعبے میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ایشیا کے تجارتی راستوں کے لیے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ شعبے میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ایل ایس ایم میں 12.1 فیصد ماہانہ اور 10.5 فیصد سالانہ اضافہ جبکہ مجموعی نمو 5.8 فیصد رہی۔

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ 5جی نیلامی میں 500 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، جبکہ بڑے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات بھی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترسیلات زر میں 11 فیصد اور آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔