واشنگٹن ( نیوزڈیسک) امریکی اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں، چاہے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہی کیوں نہ رہے، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس جنگ کے اخراجات عرب ممالک ادا کریں۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر تہران کا کنٹرول برقرار رہے، اور اسے دوبارہ کھولنے کا پیچیدہ کام بعد کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ اس اہم راستے کو زبردستی کھولنے کی کارروائی جنگ کو ان کے مقررہ چار سے چھ ہفتوں کے ٹائم فریم سے آگے لے جائے گی۔
امریکی اخبار کے مطابق اسی لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کو اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے چاہئیں، جن میں ایران کی بحریہ کو کمزور کرنا اور اس کے میزائل ذخائر کو نقصان پہنچانا شامل ہے، اور پھر موجودہ لڑائی کو ختم کرتے ہوئے سفارتی دباؤ کے ذریعے تہران کو تجارت کی آزادانہ روانی بحال کرنے پر مجبور کیا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکمت عملی ناکام ہوتی ہے، تو واشنگٹن یورپ اور خلیجی اتحادیوں پر زور دے گا کہ وہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مرکزی کردار ادا کریں۔
6 اپریل سے پہلے ڈیل چاہتے ہیں: کیرولین لیوٹ
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ6 اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل ڈیل چاہتے ہیں، ایران جنگ سے متعلق4سے6 ہفتوں کی ٹائم لائن برقرار ہے، ایران امریکا یا اتحادیوں کو دھمکیاں نہیں دے سکتا۔

کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران جنگ سے متعلق اچھی بات چیت جاری ہے، تہران نے امریکا کی کچھ تجاویز سے اتفاق کیا ہے، ایران نے جو کہا اسے جانچا جائے گا، ٹرمپ چاہتے ہیں کہ عرب ممالک جنگی اخراجات میں حصہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کا ٹول ٹیکس لینے کی حمایت نہیں کرتا، واشنگٹن سے جھوٹ بولنے والے کچھ ایرانی رہنما دنیا میں نہیں رہے، انہوں نے امریکا کو مذاکرات میں گھیر لیا تھا، یہ صدر ٹرمپ کیلئے ناقابل قبول تھا۔
جنگ ہماری شرائط پر ختم ہوگی: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی بھی فیصلہ ہماری شرائط پر ہوگا، جنگ تمام حالات کو مد نظر رکھ کر ختم کی جائے گی۔
ایران کے مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا۔
امریکی افواج کو خطے سے نکالنے کا وقت آ گیا: عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنا برادر ملک سمجھتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔
عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ ہماری کارروائیاں ان دشمن قوتوں کے خلاف ہیں جو نہ عربوں کا احترام کرتی ہیں اور نہ ایرانیوں کا، اور نہ ہی کسی کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہیں۔
عباس عراقچی نے ایک تباہ امریکی طیارے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ خود دیکھ لیں کہ ہم نے ان کے فضائی کمانڈ کے ساتھ کیا کیا، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو خطے سے نکال دیا جائے۔
اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ تنصیبات پر حملے
ایران نے آپریشن وعدہ صادق کی 87 ویں لہر کا آغاز کر دیا، مختلف علاقوں میں دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ہینگرز، ویپن سپورٹ تنصیبات اور امریکی و صیہونی فوجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، حیفا میں آئل ریفائنری پر حملہ کیا، شعلے آسمان کو چھوتے رہے۔

خطے میں امریکی تنصیبات بھی ایران کے نشانے پر رہیں، سعودی عرب کے قریب پرو جیکٹائل سے بحری جہاز پر حملہ کیا، سعودیہ میں امریکی وارننگ سسٹم کو بھی تباہ کردیا، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈرز کے ٹھکانے پر حملے کئے۔
شارجہ میں ٹیلی کام کمپنی کی عمارت پر ایران نے ڈرون حملہ کیا، حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کویتی حکام کا کہنا ہے دبئی پورٹ پر ایرانی حملے میں بڑے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے بعد متاثرہ آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ترکیہ کا ایک اور میزائل حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
یو اے ای کا 11 میزائل اور 27 ڈرون روکنے کا دعویٰ
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے 24 گھنٹوں کے دوران 11 میزائل اور 27 ڈرون روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک وہ 1941 ڈرونز اور 440 میزائلوں سے نمٹ چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں مزید بتایا گیا کہ اب تک ہوئے حملوں میں 178 افراد زخمی اور آٹھ ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب بحرین کی دفاعی فورس نے کہا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نے آٹھ میزائل اور سات ڈرون روکے اور اب تک وہ 182 میزائل اور 398 ڈرون روک چکی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران ان پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکا کی موجودگی ہے۔












منگل 31 مارچ 2026 