ایران نے دبئی کے ساحل کے قریب کھڑے آئل ٹینکر پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز نہ کھولا تو امریکا اس کے توانائی کے پلانٹس اور تیل کے کنوؤں کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روز حملے کا نشانہ بننے والا ٹینکر ال-سالمی کویت کا پرچم لگائے چل رہا تھا۔
یہ حملہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد، خلیج اور ہرمز کے راستے چلنے والے تجارتی جہازوں پر میزائل یا دھماکہ خیز ڈرون کے حالیہ حملوں کی ایک کڑی ہے۔
Dubai authorities have confirmed that response teams have successfully extinguished the fire involving a Kuwaiti oil tanker. Relevant teams continue to assess the situation and take the necessary measures, and updates will be shared as they become available.
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) March 31, 2026
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ ٹینکر تقریباً 2 ملین بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی موجودہ قیمت 200 ملین ڈالر سے زائد ہے۔
ٹینکر کے مالک کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کام جاری ہے اور آئل اسپِل کے امکان سے خبردار کیا۔
دبئی کے حکام نے بعد ازاں بتایا کہ ڈرون حملے کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
کویت نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ آئل ٹینکر سے اردگرد کے پانیوں میں تیل کا اخراج ہوسکتا ہے۔












منگل 31 مارچ 2026 