اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکج صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک مربوط معاشی منصوبہ ہے، جس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومت مہنگائی کے بوجھ سے متاثرہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور ریلیف کے لیے خصوصی فنڈز مختص کر چکی ہے۔ اس ریلیف پیکج کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کے زیرِ نگرانی ایک مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے تاکہ سبسڈی براہِ راست مستحق افراد تک پہنچے اور ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کے امکانات کو روکا جا سکے۔
انہوں نے بجلی کے بلوں میں کمی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی اور بجلی کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے، جس کے ثمرات جلد صارفین کے بلوں میں نظر آئیں گے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے اور نوجوانوں کے لیے آئی ٹی سیکٹر اور چھوٹے کاروباروں میں آسان قرضے فراہم کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کبھی ملک کو دیوالیہ کرنے کی باتیں کرتے تھے، آج عوام کی خوشحالی دیکھ کر پریشان ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اقدامات پر اعتماد رکھیں کیونکہ حکومتی ٹیم دن رات ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔












منگل 31 مارچ 2026 