پاکستان جابنداری کے بجائے “امن کا سہولت کار” بننے پر یقین رکھتا ہے، ترجمان دفترِ خارجہ

Calender Icon منگل 31 مارچ 2026

اسلام آباد(نیوزڈیسک): پاکستان کا دفترِ خارجہ اس وقت انتہائی مصروف دور سے گزر رہا ہے، جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی قیادت میں ملک خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

دفترِ خارجہ کی کوششوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا شامل ہے، اور پاکستان نے ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ قریبی رابطے قائم کیے ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں انہوں نے چینی قیادت اور وزیر خارجہ وانگ یی سے بحری گزرگاہوں کی حفاظت اور ایران-امریکا تنازع کے پرامن حل پر تفصیلی بات چیت کی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے “امن کا سہولت کار” بننے پر یقین رکھتا ہے اور دونوں فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ کشیدگی کم ہو اور خطے میں پائیدار امن کے لیے متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

اسی دوران، پاکستان نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری جنگ بندی کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے عالمی برادری پر زور دیا ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے حالیہ بیان میں مذاکرات کی تردید کے باوجود، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ سفارتکاری اکثر عوامی بیانات سے مختلف ہوتی ہے اور پاکستان اپنے امن مشن پر بدستور کام کر رہا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق آنے والے چند دن انتہائی اہم ہیں، کیونکہ 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کے قریب آتے ہی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، اور پاکستان کسی بھی صورت میں جنگی جنون کو کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔