اسلام آباد (نیوز رپورٹر ) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائےدفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کی دعوت پر ایک روزہ دورۂ چین غیر معمولی سفارتی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں اس بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس دورے سے پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک ہم آہنگی مزید مضبوط ہوگی ۔ دونوں ممالک پہلے ہی اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں. دونوں وزراء خارجہ کی حالیہ ملاقات میں ایران کی صورتحال سرفہرست ہے ۔ اس کے علاوہ سی پیک، علاقائی سلامتی، توانائی کے تحفظ اور بحری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ جیسے معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے.دورے کا ایک اہم پہلو پاکستان کی ثالثی کوششوں پر چین کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی اور ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے ۔ اس تناظر میں اسحاق ڈار بیجنگ کو اپنی سفارتی پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جائے گی .چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ چین براہِ راست اسی بحران سے جڑا ہوا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے حامی ہیں اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں . البتہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چین امریکہ کا “ضامن” بن رہا ہے۔ چین نے اب تک خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے جو ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ کشیدگی سے بچنا چاہتا ہے۔ چین کی حکمتِ عملی زیادہ تر سفارتی توازن اور توانائی کے مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے . اسحاق ڈار کا یہ دورہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا عکاس ہے۔ پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو یہ دورہ خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
اسحاق ڈار کا دورہ چین براہِراست خلیجی بحران سے جڑا ہے، سینیٹر عبدالقادر
منگل 31 مارچ 2026












