پاکستان میں زرعی ترقی کا نیا باب،گرین پاکستان انیشیٹِوو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے مؤثر اقدامات

Calender Icon بدھ 1 اپریل 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں زرعی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ہو رہا ہے، جس کے ذریعے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔

اس منصوبے کے تحت جدید زرعی ٹیکنالوجی اور حکمتِ عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف علاقوں میں قابلِ ذکر پیش رفت ہو رہی ہے، جبکہ چولستان کے وسیع صحرا میں بنجر زمین کو زرخیز بنانے کی کوششیں نمایاں نتائج دے رہی ہیں۔

چولستان میں قائم پینٹیرا فارمز اس حوالے سے ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں جدید زرعی نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر عطا اللہ کے مطابق اس منصوبے سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں اور علاقائی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔

مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ پینٹیرا فارمز کی آمد سے علاقے میں ہریالی آئی ہے، بہتر سہولیات فراہم ہوئی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دور افتادہ علاقوں تک رسائی کو بھی ممکن بنایا گیا ہے جس سے زرعی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سی ای او فرقان علی کے مطابق پینٹیرا فارمز میں کسانوں کے لیے ماڈرن اور اسمارٹ زرعی نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس میں سینٹرل پیوٹ، ڈرپ اریگیشن اور ڈرون کے ذریعے پیسٹی سائیڈ اسپرے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے 7 سے 8 کلومیٹر طویل اندرونی نہری نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زراعت کے فروغ اور قومی سطح پر زرعی خودکفالت کے حصول میں گرین پاکستان انیشیٹو کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو مستقبل میں ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔