تھربجلی فراہمی : اخراجات میں کمی اور کارکردگی بہتری کے نتیجے میں 25 سے 30 ملین ڈالر کی سالانہ بچت

Calender Icon بدھ 1 اپریل 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تھر کول مائننگ میں اصلاحات اور آپریشنل بہتری کے نتیجے میں سالانہ 25 سے 30 ملین ڈالر تک زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے، جبکہ ڈیزل پر انحصار کم ہونے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت اور وفاقی وزیر برائے پاور آویس احمد لغاری کی اسٹریٹجک ہدایات پر پاور ڈویژن نے تھر کول مائننگ کے آپریشنز میں درپیش مسائل کے حل کے لیے جامع اصلاحاتی اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ڈیزل کی کھپت میں کمی، پیداواری لاگت میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان اصلاحات کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 25 ملین روپے کے ڈیزل اخراجات میں بچت متوقع ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے سالانہ بنیادوں پر 25 سے 30 ملین ڈالر تک زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ کوئلے کی فی ٹن قیمت میں بھی تقریباً 0.7 ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس سے تھر کول سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔

ابتدائی طور پر تھر کول مائننگ میں ڈیزل پر مبنی نظام کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت تقریباً 33 سینٹ فی کلو واٹ تھی، جو اصلاحات کے بعد کم ہو کر تقریباً 13 سینٹ فی کلو واٹ یا اس سے بھی کم تک آنے کی توقع ہے، یعنی لاگت میں 60 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ ہوگی۔

مائننگ آپریشنز میں خاص طور پر ڈی واٹرنگ اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ڈیزل پر انحصار ایک بڑا چیلنج رہا ہے، جہاں صرف پانی نکالنے کے عمل میں روزانہ تقریباً 35 ہزار لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا تھا، جبکہ مجموعی طور پر یومیہ 200 ہزار سے 250 ہزار لیٹر ڈیزل خرچ ہو رہا تھا۔ یہ بھاری اخراجات بالآخر بجلی کے صارفین پر زیادہ ٹیرف کی صورت میں منتقل ہوتے تھے۔

پاور ڈویژن نے تھر کول انرجی بورڈ (TCEB)، نیشنل گرڈ کمپنی (NGC) اور ہیسکو سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک پائیدار متبادل پر کام کیا، جس کے تحت ڈیزل پر مبنی نظام کو گرڈ سے منسلک انفراسٹرکچر میں تبدیل کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

اس منصوبے کے تحت تقریباً 5.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے گرڈ اسٹیشنز اور ٹرانسمیشن لائنز تیار کی جائیں گی، جس کے ذریعے ہیسکو کے 132 کے وی اسلام کوٹ گرڈ اسٹیشن سے کنکشن ممکن ہوگا اور تھر مائننگ کے لیے تقریباً 60 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا سکے گی۔

وفاقی وزیر آویس احمد لغاری نے متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف مالی بچت کا باعث بنے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اور ماحول دوست حل کی جانب اہم قدم ہے۔

ماحولیاتی اعتبار سے بھی یہ اصلاحات اہم ہیں، جن کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 80 ہزار ٹن کاربن اخراج میں کمی متوقع ہے۔ مزید برآں، ڈیزل سے چلنے والی مائننگ گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں، جس سے کارکردگی بہتر ہوگی اور طویل مدتی ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق تھر کول منصوبے میں گرڈ انٹیگریشن اور ڈیزل پر انحصار میں کمی پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف لاگت کم کرے گی بلکہ صارفین کو نسبتاً سستی اور مستحکم بجلی کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے گی۔