تہران، ابوظہبی، واشنگٹن ( ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ 34 ویں روز میں داخل ہو گئی، ٹرمپ نے ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دے دی، لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر شہید ہو گئے، امریکی اخبار کے مطابق یو اے ای آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، اسرائیل کی تہران پر رات بھر بمباری، ایران کے جوابی حملے بھی جاری ہیں۔
امریکا کی دھمکیوں پر ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نےکہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج اپنے ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے، تاریخ گواہ ہے کہ ایران نےکبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا، ایرانی پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کی باتوں کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم کے دشمنوں کے لیے آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائے گا۔
ادھر ایرانی پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا خطے میں میری ٹائم رجیم تبدیلی کی صورت میں ٹرمپ کا رجیم چینج کا خواب پورا ہوچکا ہے، ابراہیم عزیزی ٹرمپ کو مخاطب کرکے بولے آبنائے ہرمز یقینی طور پر دوبارہ کھلے گی لیکن آپ کے لیے نہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو آبنائے ہرمز کھولنے سے مشروط کردیا، دھمکی دی کہ جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی تب تک ہم ایران کو مکمل تباہ کردیں گے۔
ایران میں مزید کیا حاصل کرنا باقی ہے؟ آسٹریلیا
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب یہ واضح نہیں کہ مزید کیا اقدامات درکار ہیں یا اس عمل کا حتمی نتیجہ کیا ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم تناؤ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر زیادہ وضاحت ہو کہ یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اس جنگ کا فعال فریق نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تمام آسٹریلوی اس کے باعث زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔
یو اے ای آبنائے ہرمز بزور طاقت کھلوانے کی قرارداد لائے گا
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جس کے تحت اس کارروائی کی اجازت حاصل کی جاسکے۔
اماراتی سفارتکاروں نے امریکا اور یورپ و ایشیا کی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ اتحاد قائم کریں جو طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکے، یو اے ای کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امارات نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کو اس اہم آبی گزرگاہ میں واقع بعض جزائر، بشمول ابو موسیٰ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہیے جو گزشتہ نصف صدی سے ایران کے کنٹرول میں ہے جبکہ امارات بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق عرب حکام کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ایران کو کمزور یا اس کی حکومت کو ختم نہ کر دیا جائے۔
ایران کے تمام بجلی گھر تباہ، پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران انتہائی شدید حملے کریں گی تاکہ تمام تزویراتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
وائٹ ہاؤس سے نشر ہونے والے 19 منٹ کے خطاب میں صدر ٹرمپ کا لہجہ سخت تھا، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے تصفیے کے لیے ڈیل نہ کی تو امریکا اس کے تمام بجلی گھروں کو بیک وقت نشانہ بنائے گا جس سے ایران دہائیوں پیچھے ’پتھر کے دور‘ میں چلا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 32 دنوں کی فوجی کارروائیوں میں امریکا نے فیصلہ کن فتوحات حاصل کی ہیں اور اب ایران کی وہ حیثیت نہیں رہی کہ وہ امریکا کے لیے خطرہ بن سکے۔
ٹرمپ کی دھمکی پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سٹاک مارکیٹس میں مندی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی عوام سے خطاب میں ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی سطح پر برطانوی معیار کا خام تیل برینٹ تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 105.55 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 3 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں نے حالیہ عالمی حالات اور ٹرمپ کے خطاب کے بعد محتاط رویہ اختیار کر لیا۔
جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی۔ اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔
امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی ایران ان کے لیے خطرہ ہے، ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا نہ صرف موجودہ حقائق کے منافی ہے بلکہ تاریخی تناظر میں بھی درست نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے دراصل ملک کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں جن کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، ایران نے حالیہ حملوں کا جواب عزم اور حوصلے کے ساتھ دیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جائے اور عوامی سطح پر بہتر تعلقات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔
یو اے ای میں 37 امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی، ایران نے یو اے ای میں حملہ کرکے 37 امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، امریکی ایواکس اور ری فیولنگ طیاروں پر ڈرون حملے کئے گئے، میزائل لگنے سے تل ابیب میں عمارت تباہ ہوگئی، متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بن گوریان ایئرپورٹ پر امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، بنی براک میں تیرہ صیہونی زخمی ہوئے، ایران کے قطر پر میزائل حملے سے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ پر ڈرون حملہ کیا گیا جس میں بنگلا دیشی شہری جان سے گیا۔
کویت ایئرپورٹ پر حملہ کے بعد فیول ٹینکس میں آگ لگ گئی، بحرین میں فیکٹری پر حملہ کیا گیا، ام القوین میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے شہری زخمی ہوگیا، دبئی کے مختلف علاقوں میں دھماکے ہوئے، ایئر ڈیفنس سسٹم فعال کر دیا گیا، دبئی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ممکنہ خطرات کو ناکام بنا دیا، عراقی شہر اربیل میں برطانوی آئل کمپنی کے دفتر پر میزائل اور ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
پاسداران انقلاب کے مطابق مختلف اڈوں پر سو میزائل، ڈرونز اور دو سو راکٹ داغے گئے، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا۔
لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم اسرائیلی حملے میں شہید
لبنان میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم بیروت میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے، لبنانی وزارت صحت کے مطابق حملے میں سات افراد جاں بحق ہوئے، تین گاڑیوں کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے زوردار دھماکہ ہوا، یوسف اسماعیل ہاشم لبنان میں حزب اللہ کے کمانڈر تھے۔
انہیں حزب اللہ کی مختلف صفوں میں 40 سال کا تجربہ تھا اور وہ خصوصی کمیٹیوں کے رکن تھے، یوسف ہاشم نے 2024ء میں علی کرکی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔
لبنانی سکیورٹی ذرائع اور حزب اللہ کے ایک ذرائع نے بتایا کہ یوسف اسماعیل ہاشم ایک زمانے میں عراق میں حزب اللہ کے عسکری امور کے انچارج تھے اور جب اسرائیلی حملہ ہوا تو وہ ایک خیمے کے اندر ایک میٹنگ میں موجود تھے۔
یوسف ہاشم حزب اللہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار تھے جنہیں اس جنگ کے آغاز سے ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، حزب اللہ نے کہا کہ اس کے ایک اور رکن محمد باقر نابلسی بھی بیروت کے علاقے جناح پر حملے میں جاں بحق ہوگئے۔












جمعرات 2 اپریل 2026 