ملکی مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب سے متجاوز، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کرلیا

Calender Icon جمعرات 2 اپریل 2026

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال سے متعلق تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق پاکستان کا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے بڑھ چکا ہے، جس کا بوجھ بالآخر ہر شہری پر بھی پڑ رہا ہے۔

اجلاس کے دوران اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بھاری قرضے میں مقامی قرضہ 55 ہزار ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم 26 ہزار ارب روپے سے بھی بڑھ چکا ہے۔ اس حساب سے ملک کا ہر شہری اوسطاً تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض بنتا ہے۔

حکام کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ مالی خسارہ ہے، جسے پورا کرنے کے لیے حکومت کو مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ روپے کی قدر میں کمی بھی قرضوں کے بوجھ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے معاشی پالیسیوں کے حوالے سے پارلیمنٹ کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے اسٹیٹ بینک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوانین پارلیمنٹ سے منظور کرا کے معیشت پر منفی اثرات ڈالے جا رہے ہیں، اور اسی تناظر میں اگلے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 300 ارب روپے کا قرض حاصل کیا، جو تاحال استعمال نہیں کیا جا سکا، تاہم اس پر سود کی ادائیگی جاری ہے، جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

مجموعی طور پر اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق نے ملک کی معاشی صورتحال اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔