ایران جنگ کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، روس
ماسکو(ویب ڈیسک) روس نے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ جنگ اور ایران سے متعلق تنازع حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور اس سلسلے میں صدر ویلادیمیر پوٹن مختلف رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ روس ایران سے متعلق تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور صدر ولادیمیر پیوٹن علاقائی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر پوٹن ان روابط کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر ہماری خدمات کسی بھی طرح درکار ہو تو ہم یقیناً اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہیں کہ عسکری صورت حال جلد از جلد ایک پرامن راستے کی طرف منتقل ہو جائے۔پیسکوف کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جنگ سے متعلق قوم سے خطاب اور امریکا کی نیٹو سے دستبرداری پر غور کرنے کے حوالے سے دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا ہے، روسی ترجمان نے کہا کہ روس نیٹو کو ایک دشمن اتحاد کے طور پر دیکھتا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ویلادیمیرپوٹن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر سیاسی او سفارتی کوششوں کا مطالبہ کیا۔کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کے فوری خاتمے پر زور دیا اور تنازع کے پائیدار حل کے حصول کے لیے بھرپور سیاسی اور سفارتی کوششوں کو اہم قرار دیا۔روسی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس نے امریکا اور اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے مزید روسی عملے کو نکالنے کے دوران جنگ بندی یقینی بنائیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کی ریاستی نیوکلیئر کارپوریشن روس ایٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ سفر کے راستے متعلقہ حکام کو اسرائیل اور امریکا میں اطلاع دی جائےگی اور ہم قافلے کی حرکت کے دوران جنگ بندی کی سخت پابندی کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں گے۔الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ عملے کی واپسی کے آخری مرحلے میں تقریباً 200 افراد شامل ہیں جن کی واپسی عارضی طور پر اگلے ہفتے کے لیے شیڈول کی گئی ہے۔خیال رہے کہ روس نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر ری ایکٹر کی تعمیر کی تھی اور روس ایٹم کا عملہ وہاں اضافی یونٹس کی تعمیر پر کام کر رہا ہے۔












جمعرات 2 اپریل 2026 