ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں اب تک مختلف واقعات میں سات امریکی جنگی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جس سے امریکا کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے CNN کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ایران نے ایف-15 اور اے-10 امریکی طیارے مار گرائے، جس کے بعد مجموعی تعداد سات ہوگئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2 مارچ کو کویت میں ‘فرینڈلی فائر’ کے دوران امریکی فضائیہ کے تین ایف-15 طیارے مار گرائے گئے تھے، تاہم ان میں موجود پائلٹ سمیت چھ ارکان بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے کہا تھا کہ تین پائلٹ ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے واپس پہنچ گئے ہیں۔
12 مارچ کو عراق میں امریکی سی-135 جیٹ ٹینکر گر کر تباہ ہوا، جس میں عملے کے چھ افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج نے وضاحت کی کہ یہ حادثہ دشمن کی کارروائی یا فرینڈلی فائر کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران دوسرے طیارے سے ٹکرانے کی وجہ سے پیش آیا۔
سی این این کے مطابق 27 مارچ کو سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے میں امریکی ای-3 سینٹری ایئربورن طیارہ تباہ ہوگیا، جس میں دس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس دوران امریکی فضائیہ کے ایک ٹینکر کو بھی نقصان پہنچا۔
مزید یہ کہ گزشتہ ماہ ایک امریکی ایف-35 کو مشرق وسطیٰ میں ایرانی فائر کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی تھی۔
اس طرح ایران کی کارروائیوں کے باعث امریکی طیاروں کو متعدد نقصانات اٹھانے پڑے ہیں، اور تنازع میں شدت اور خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی طیارے مار گرانے کا سلسلہ جاری، تباہ شدہ طیاروں کی تعداد 7 تک پہنچ گئی
ہفتہ 4 اپریل 2026












