پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے غیر متوقع دھچکے کا سبب بن گئی ہیں، کیونکہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران بھارت مشرق وسطیٰ مذاکرات سے دور رہ گیا اور امریکا میں اس کا اثر و رسوخ محدود ہو گیا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے لکھا کہ پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل بلاک علاقائی اثر و رسوخ میں تبدیلی کی علامت ہے، جو بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو ثالث کے طور پر ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سفارتی محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے۔
پاکستان کی ثالثی نے بھارت کو سفارتی محاذ پر ناک آؤٹ کر دیا
ہفتہ 4 اپریل 2026












