ایران اور امریکا کے درمیان کشیدہ صورتحال کے دوران مختلف ممالک میں قائم ایرانی سفارتخانوں نے سوشل میڈیا پر امریکا اور صدر Donald Trump کے حوالے سے طنزیہ پیغامات شیئر کیے ہیں۔
زمبابوے میں ایرانی سفارت خانے نے ایک پیغام میں لکھا، ’’ٹرمپ، براہِ کرم بات کریں، ہم بور ہو گئے ہیں‘‘، جسے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ ملی۔
اسی طرح ایک اور طنزیہ پیغام میں امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’’بلیک فرائیڈے‘‘ قرار دیا گیا۔
جنوبی افریقا میں ایرانی سفارت خانے نے امریکی جرنیلوں کی برطرفی پر طنز کرتے ہوئے لکھا، ’’رجیم چینج کامیابی سے مکمل ہوگئی، امریکا کو عظیم بناؤ‘‘، اور اس کے ساتھ ٹرمپ پر مبنی ایک میم بھی شیئر کی گئی۔
برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے نے صدر ٹرمپ کے ایران کو “پتھر کے دور میں بھیجنے” کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غیر ذمہ دارانہ بیان قرار دیا۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضائی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جرنیلوں کے بجائے صدر ٹرمپ کو ہی عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔
یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود بیانیہ جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں سفارتی محاذ پر طنز اور پیغامات کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سفارتخانوں کے طنزیہ پیغامات، ٹرمپ کو مذاکرات کی دعوت
ہفتہ 4 اپریل 2026












