یارِ غیر کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے لیے نئی امید: پاکستان اور کینیڈا کا مشترکہ قانونی مشن

Calender Icon اتوار 5 اپریل 2026

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سمندر پار قید ہزاروں پاکستانیوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک بڑے عالمی اشتراک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کینیڈین ہائی کمیشن اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے مشترکہ طور پر ‘ڈیٹینڈ ایبراڈ’ (Detained Abroad) کے نام سے ایک جدید ڈیجیٹل ریگولیٹری پلیٹ فارم متعارف کرادیا ہے ، جس کا مقصد دنیا بھر، بالخصوص انڈو پیسیفک خطے میں قید 21,000 سے زائد پاکستانیوں کے قانونی حقوق اور قونصلر رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف قیدیوں کے لیے ایک قانونی ڈھال ثابت ہوگا بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک سنگ میل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں مقیم کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت اس منفرد منصوبے کی حمایت پر فخر محسوس کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پورٹل انڈو پیسیفک خطے میں مقیم کینیڈین، پاکستانی اور دیگر قومیتوں کے شہریوں کو بروقت قانونی مدد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، تاکہ کسی بھی شہری کو قانونی حق سے محروم نہ رکھا جا سکے۔

سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سمندر پار پاکستانیوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اکثر پاکستانی زبان اور غیر ملکی قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ پورٹل ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے ایڈووکیسی لیڈ حارث ذکی نے پورٹل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم قیدیوں کے خاندانوں اور وکلاء کو متعلقہ ممالک کے سزائے موت کے قوانین سے آگاہ کرے گا۔قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی روک تھام اور ان کی وطن واپسی کے طریقہ کار کو شفاف بنائے گا۔قانونی ماہرین، سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔

تقریب میں انسانی حقوق کی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، رکن قومی اسمبلی الیاس چوہدری، سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز ندیم اسلم کے علاوہ پرتگال کی سفیر، یورپی یونین کے نمائندوں اور آئرلینڈ کے سفارتی حکام نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پورٹل کے ذریعے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق قونصلر رسائی کے عمل کو مزید شفاف اور تیز بنایا جائے گا۔