اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول قیمت میں فی لیٹر 80 روپے کمی کا اعلان حکومت کی جانب سے قیمت میں بڑااضافہ کرنے کے صرف ایک دن بعد کیا ، یہ کمی پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے بعد ممکن ہوئی۔
پیٹرول کی قیمت جو جمعرات کی رات 458 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی، وزارتِ خزانہ کی جانب سے لیوی کے جزو پر آئی ایم ایف سے جزوی نرمی حاصل کرنے کے بعد 378 روپے فی لیٹر تک کم کر دی گئی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا اعلان اسی وقت سامنے آیا جب وزارت خزانہ نے ہفتے کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں کامیابی حاصل کی، فنڈ نے ابتدا میں پروگرام کے وعدوں کے تحت پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر فی لیٹر 80 روپے لیوی برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔
یہ پیش رفت عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جو جاری ایران جنگ کے باعث بڑھ گئی ہیں، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
خاص طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں تیز اضافے کا سامنا کرتے ہوئے، حکومت نے اس سے قبل فیصلہ کیا تھا کہ بوجھ کو متوازن رکھنے اور ڈیزل کی قیمتوں کو خریداری لاگت کے قریب رکھنے کے لیے پیٹرول پر لیوی دگنی کر دی جائے۔
نتیجتاً جمعرات کی رات پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا، جس کے تحت پیٹرول 458 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا، جیسا کہ وزیر خزانہ اور وزیرِ پیٹرولیم نے اعلان کیا۔
تاہم ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف، جنہوں نے پہلے ہی عوام پر مکمل بوجھ منتقل کرنے کے افراطِ زر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا، نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے ساتھ اٹھائے۔
یہ ہدایت آئی ایم ایف کی اس پہلے کی ہچکچاہٹ کے بعد دی گئی، جس کی رپورٹ جمعہ کو دی نیوز نے شائع کی تھی، جس میں حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کی درخواست کے باوجود لیوی میں نرمی سے انکار کیا گیا تھا۔
وزیراعظم نے زور دیا تھا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کرنا “بہت زیادہ” ہوگا اور اس سے افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی نئی درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے محدود نرمی پر رضامندی ظاہر کی اور پیٹرول پر مؤثر لیوی کے بوجھ میں کمی کی اجازت دے دی۔
اس مفاہمت نے وزیراعظم کے رات گئے اعلان کی راہ ہموار کی، جس سے صارفین کو فوری ریلیف ملا۔حکام نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور عوام کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے بچانے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر عالمی تیل منڈیوں میں جاری غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر۔












اتوار 5 اپریل 2026 