اسلام آباد(نیوزڈیسک)متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالرز کی بمعہ 6 فیصد سود کے ساتھ واپسی کے فیصلے کے بعد بیرونی مالیاتی خلا میں اضافےکا امکان ہے۔
میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق اب یا تو حکومت یہ خلا خود سنبھالے گی یا پھر آئی ایم ایف سے درخواست کرے گی کہ زر مبادلہ کے ذخائر کا ہدف نرم کیا جائے۔
جب پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ چیف ماہر بنچی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایک مختصر جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔
7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے سے قبل جون 2026 کے لیے زرمبادلہ ذخائر کا ہدف 17.8 ارب ڈالر سے کم کرکے 17.5 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت مالیاتی خلا تقریباً 46 کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا۔
حکام کے مطابق توقع تھی کہ متحدہ عرب امارات اور کویت کے 3.7 ارب ڈالر کے ذخائر رواں مالی سال میں رول اوور ہو جائیں گے، تاہم اب پاکستان اپریل 2026 کے وسط میں 2 ارب ڈالر واپس کرنے جا رہا ہے جب کہ باقی 1 ارب ڈالر جون یا جولائی میں ادا کیے جانے کا امکان ہے۔اس نئی صورتحال کے بعد مالیاتی خلا بڑھ کر تقریباً 2.46 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جس کے ساتھ 6 فیصد سود کی ادائیگی بھی شامل ہوگی۔
اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بحران کے بعد متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے قرض واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پر پاکستانی وزارت خارجہ نے وضاحت دی تھی کہ متحدہ عرب امارات کے وہ پیسے واپس کر رہے ہیں جن کی مدت مکمل ہو گئی ہے۔












اتوار 5 اپریل 2026 