کراچی:(نیوزڈیسک)ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے نامکمل اور ناقص انتظامات کے سبب کراچی میں میٹرک کے امتحانات کا بروقت آغاز سوالیہ نشان بن گیا، پورے سندھ کی طرح کراچی میں امتحانات 7 اپریل سے ہونے ہیں ہزاروں طلبہ اپنے ایڈمٹ کارڈ سے محروم ہیں۔
میڈیاکے مطابق ان امتحانات میں ساڑھے 3 لاکھ سے زائد طلبہ شریک ہورہے ہیں ایڈمٹ کارڈ کے عدم اجراء کے سبب طلبہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا امتحانی مرکز کہاں ہے۔
یاد رہے کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کی جانب سے ایڈمٹ کارڈ ہفتے کی شام پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا دعوی کیا گیا تھا تاہم جب نجی و سرکاری اسکول کی انتظامیہ نے پورٹل کے ذریعے ایڈمٹ کارڈ ڈائون لوڈ کرنے کی کوشش کی تو بڑی تعداد میں اسکولوں کی جانب سے بورڈ کے پورٹل سے error کا میسج آنے کی شکایات موصول ہوئیں جبکہ جن اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ ملے ہیں وہ بھی تعداد کے حساب سے نامکمل ہیں اورامتحانات سے ایک روز پہلے بھی کراچی کے طلبہ پرچوں کی تیاری کے بجائے اپنے ایڈمٹ کارڈ اور سینٹر کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔
دوسری جانب ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اتوار کی رات ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق بورڈ سے الحاق شدہ وہ اسکول جوابھی تک آن لائن ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے ہیں وہ اسکول سربراہان یا ان کے نمائندے اپنے اتھارٹی لیٹر کے ساتھ بورڈ آفس کے کانفرنس ہال پہلی منزل بلاک B میں پیر 6 اپریل کو صبح 9 بجے سے اپنے ایڈمٹ کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔
ادھر اس صورتحال پر گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے امتحانات ایک ہفتے کے لیے موخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ چیئرمین بورڈ سے اختلاف کے سبب سبک دوش ناظم امتحانات ضیاءالحق 16 مارچ سے غیر فعال اور امتحانی امور ٹھپ تھے اور امتحانات سے 4 روز پہلے لاڑکانہ بورڈ کے انسپیکٹر انسٹی ٹیوشنز کو کراچی بورڈ کا ناظم امتحانات مقرر کیا گیا اور نئے ناظم امتحانات بھی سارے معاملات اس قدر عجلت میں سمجھنے سے قاصر ہیں۔
اس صورتحال پر امتحانات موخر کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایسوسی ایشن کے رہنما حیدر علی کا کہنا ہے کہ “کثیر تعداد میں اسکولوں کے ایڈمٹ کارڈز پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہو سکے ہیں افراتفری میں اور اندھا دھند بنانے جانے والے امتحانی مراکز پر امتحانی عمل تعلیم کے ساتھ ایک مذاق ہے، ساڑھے 3 لاکھ بچوں کا مستقبل کسی ایک شخص کی جھوٹی عزت اور ذاتی انا کے لیے خراب نہیں کیا جانا چاہیے”۔
بتایا جارہا ہے کہ ناظم امتحانات غیر فعال تھے ایگزامینیشن سیل نے تین روز قبل ایڈمٹ کارڈ اپ لوڈنگ کے لیے آئی ٹی سیل کے حوالے کیے اور تین روز میں ساڑھے 3 لاکھ ایڈمٹ کارڈ کی اپ لوڈنگ ناممکن تھی۔
دوسری جانب جب اتوار کی دوپہر چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم 24 گھنٹے کام کررہے ہیں اتوار کی شام تک صورتحال کنٹرول ہوجائے گی ہم نے جنوری سے سینٹر فیکسیشن پر کام شروع کردیا تھا لیکن بورڈ میں کچھ لوگ نااہل اور کچھ کے برے اہداف ہیں اسکولز ایسوسی ایشن بھی انہی اہداف پر کام کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امتحانات موخر نہیں ہونگے کیونکہ 80 فیصد اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ ملے چکے ہیں 20 فیصد کو بھی مل جائیں گے۔












اتوار 5 اپریل 2026 