اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین، ماہرامور خارجہ اور سینئر تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار اور آئندہ کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی سفارتکاری کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
گفتگو کے دوران سید مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے میں ایک “امن کے پل” کا کردار ادا کیا ہے بلکہ مؤثر اور متوازن سفارتکاری کے ذریعے فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں وہ صورتحال جو ایک بڑے تصادم کی طرف جا رہی تھی، اس میں کمی آئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت میں دو ہفتوں کا ایک اہم ٹائم فریم سامنے آیا ہے جس میں فریقین کے درمیان مزید پیش رفت کی توقع ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی پوزیشن میں لچک دکھا رہا ہے اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، جبکہ دیگر فریقین بھی ایک قابلِ قبول معاہدے کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سید مشاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا کردار ایک “اونسٹ بروکر” کا ہے جس پر ایران، سعودی عرب اور امریکہ سمیت مختلف فریقین کو اعتماد حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہی اعتماد پاکستان کو خطے میں ایک منفرد مقام دیتا ہے جہاں وہ متوازن انداز میں مختلف فریقین کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی مؤقف پر مبنی ہے، جس میں جارحیت کی مخالفت کی جاتی ہے چاہے وہ کسی بھی جانب سے ہو۔ اسی اصولی پالیسی نے پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا ہے اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔
گفتگو میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ بین الاقوامی فورمز پر بھی متوازن کردار ادا کیا، جس سے متعلقہ فریقین کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی پیش رفت جاری رہی تو آنے والے دنوں میں خطے میں پائیدار امن کی جانب مزید پیش رفت ممکن ہے۔
سید مشاہد حسین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن اور استحکام کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، اور یہی اس کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔












بدھ 8 اپریل 2026 