معاشی شرح نمو 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں کم ہوکر 3 فیصد رہنے کا امکان

Calender Icon جمعہ 10 اپریل 2026

پاکستان کی معیشت پر عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ترقی کی رفتار سست مگر بہتری کے آثار برقرار ہیں۔ بیرونی دباؤ اور مہنگائی بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان سمیت کئی ممالک کی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے جبکہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں کم ہوکر تقریباً 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق مہنگائی 2026 میں بڑھ کر 7.4 فیصد تک جا سکتی ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دوبارہ خسارے میں تبدیل ہونے اور یہ خسارہ جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ دو فیصد تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں مندی بھی خطرات میں شامل ہیں۔

دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بہتری کا رجحان برقرار ہے اور رواں مالی سال شرح نمو 3.5 فیصد جبکہ آئندہ سال 4.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ اگرچہ مہنگائی چھ سے چھ اعشاریہ پانچ فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے تاہم مشرق وسطیٰ کشیدگی، مہنگی توانائی، کمزور ترسیلات زر اور بیرونی جھٹکے معیشت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔