ممبئی (نیوز ڈیسک) بھارتی فلمساز آدتیہ دھر نے اپنی آنے والی فلم ’دھورندھر‘ میں شاندار خدمات انجام دینے پر کاسٹیوم ڈیزائنر سمتری چوہان کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے، جنہوں نے فلم کے لیے حیران کن طور پر 10 ہزار ملبوسات تیار کیے۔
آدتیہ دھر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فلم کے ابتدائی تخلیقی مراحل کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور سمیتری چوہان کرداروں کی بصری جھلک اور رنگوں کے استعمال پر تفصیل سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کردار کے سفر میں رنگوں کی تبدیلی کا خیال ابتدا میں ایک سادہ سوچ تھی، جسے سمیتری نے نہایت سنجیدگی سے لے کر مکمل فنکاری کے ساتھ عملی شکل دی۔
ہدایتکار کے مطابق فلم میں کردار “جسکیرت” کا آغاز ہلکے رنگوں سے ہوتا ہے جبکہ اختتام تک “حمزہ” کا کردار سیاہی میں ڈوبتا ہوا نظر آتا ہے، جو کہ ایک گہری علامتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ سمیتری چوہان نے نہایت قلیل وقت میں تقریباً 10 ہزار ملبوسات تیار کیے، لیکن اس کے باوجود وہ چھوٹے سے چھوٹے جزئیات پر بھی بھرپور توجہ دیتی رہیں۔ آدتیہ دھر نے کہا کہ ایک جونیئر آرٹسٹ کی قمیض کے بٹن تک کی باریکی پر غور کرنا ان کی پیشہ ورانہ لگن کا ثبوت ہے۔
ہدایتکار نے یہ بھی بتایا کہ مرکزی کردار کے لیے 250 سے زائد مختلف انداز (لُکس) تیار کیے گئے جبکہ شوٹنگ کے دوران بڑی تعداد میں ایکسیسریز کو بھی بخوبی منظم کیا گیا۔
انہوں نے سیٹ پر سمیتری چوہان کی موجودگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ طویل اور مشکل شیڈول کے دوران بھی مسلسل محنت کرتی رہیں اور ہر مشکل صورتحال میں مسکراتے ہوئے اپنا کام جاری رکھا۔
آدتیہ دھر کی اس پوسٹ کے ساتھ فلم کے سیٹ سے کچھ پس پردہ تصاویر بھی شیئر کی گئیں، جن میں سمیتری چوہان کو کاسٹ اور عملے کے ساتھ کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔












ہفتہ 11 اپریل 2026 