جی ایل پی-1 ادویات کے ممکنہ پوشیدہ مضر اثرات سامنے آ گئے

Calender Icon اتوار 12 اپریل 2026

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) اگر آپ جی ایل پی 1 ادویات جیسے سیمگلوٹائیڈ اور ٹیرزیپاٹائیڈ استعمال کر رہے ہیں تو ایک نئی تحقیق نے ان کے کچھ ممکنہ پوشیدہ مضر اثرات کی نشاندہی کی ہے جو عام طور پر کلینیکل ٹرائلز میں مکمل طور پر سامنے نہیں آتے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق کے دوران مصنوعی ذہانت کی مدد سے تقریباً 70 ہزار صارفین کی 4 لاکھ سے زائد ریڈٹ پوسٹس کا تجزیہ کیا، جس کے ذریعے ایسی علامات سامنے آئیں جو کم رپورٹ ہوتی ہیں۔

عام طور پر ان ادویات کے مضر اثرات میں متلی، قے اور اسہال جیسے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم تحقیق میں معدے کے مسائل کے علاوہ دیگر غیر متوقع علامات بھی سامنے آئیں۔

تقریباً 4 فیصد افراد جنہوں نے مضر اثرات کی شکایت کی، انہوں نے تولیدی مسائل جیسے بے قاعدہ ماہواری اور زیادہ خون بہنے کی نشاندہی کی، اس کے علاوہ کچھ افراد نے جسمانی درجہ حرارت سے متعلق مسائل جیسے سردی لگنا، ٹھنڈ محسوس ہونا یا اچانک گرمی کے جھٹکے (ہاٹ فلیشز) کا بھی ذکر کیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ یہ ادویات ان علامات کا سبب بن رہی ہیں، تاہم یہ کچھ مخصوص رجحانات کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں۔

ایک شریک مصنف کے مطابق ان ادویات کا استعمال کرنے والے افراد آپس میں اپنے تجربات شیئر کر رہے ہیں، جو اکثر ڈاکٹرز کے پاس رپورٹ نہیں ہوتے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا ڈیٹا کلینیکل ٹرائلز کا متبادل نہیں ہو سکتا، تاہم مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے تجزیے نئی ادویات اور صحت سے متعلق رجحانات کے ابتدائی انتباہی اشارے فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔