چئیرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام(bisp) سینیٹر روبینہ خالد نے انسدادِ پولیو مہم کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے ہر شہری کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیے جا رہے ہیں، جو اس مہم کی وسعت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں تک ویکسین پہنچا رہے ہیں، جو قابلِ ستائش خدمت ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ گزشتہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران کروڑوں بچوں تک رسائی حاصل کی گئی، جو ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک بھر میں صحت کے نظام کو متحرک انداز میں کام کرنے کی ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں کیونکہ اگر ایک بھی بچہ رہ گیا تو وائرس کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو سے پاک معاشرہ ہی صحت مند اور محفوظ پاکستان کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف رواں سال پولیو کیسز کو صفر تک لانا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ فیلڈ ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حفاظت اور سہولت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
مزیدپڑھیں:بی آئی ایس پی ، 1کروڑ سے زائد مستحقین کی مالی معاونت کی جا رہی ہے، عامر علی احمد
روبینہ خالد نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بھی لاکھوں مستحق خاندانوں میں پولیو سے متعلق آگاہی پھیلائی جا رہی ہے تاکہ ہر گھر تک حفاظتی پیغام پہنچ سکے۔
انہوں نے آخر میں عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل اور پولیو فری پاکستان کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔












پیر 13 اپریل 2026 