زیرِ زمین پانی کی کمی، تجارتی نکاسی کیلئے قانون سازی ناگزیر ہوگئی: نصیر میمن

Calender Icon پیر 13 اپریل 2026

 پاکستان کے زیرِ زمین پانی (Groundwater)کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ پانی کا غیر معمولی گھریلو، زرعی اور تجارتی استعمال ہے جس کے لئے کوئی قانون موجود نہیں۔

یہ بات معروف ماہر پانی اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سینئر مشیرنصیر میمن نے کہی۔ وہ یہاں’ ’پاکستان میں پانی کے وسائل کا انتظام“ کے موضوع پر ایس ڈی پی آئی کی خصوصی تقریب کے دوسرے مرحلے میں خطاب کر رہے تھے۔ نصیر میمن نے کہا کہ انڈس بیسن کے زیرِ زمین ذخائر، جو پاکستان کے بیشتر علاقوں کا پانی فراہم کرتے ہیں، دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ دباو والے زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں شامل ہیں، اور حکومت کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہری آبادی 1997 میں 46 ملین سے بڑھ کر 2023 میں 94 ملین ہو گئی اور یہ آبادی میں اضافہ پانی کی سلامتی کےلئے سب سے بڑا چیلنج ہے جس پر پالیسی سازوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی سطح 2000 میں تقریباً 50 میٹر تھی جو 2023 تک 150 میٹر سے زیادہ گر گئی؛ لاہور میں پانی کی سطح ہر سال اوسطاً 2.61 فٹ کم ہو رہی ہے؛ راولپنڈی میں 2013 سے پانی کی سطح تقریباً 30 فٹ نیچے گر گئی جبکہ کراچی میں روزانہ 1,200 ایم جی ڈی کی طلب کے مقابلے میں صرف 650 ایم جی ڈی پانی دستیاب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پانی کی تقسیم کے نظام میں ایک تہائی سے زیادہ (35 سے 40 فیصد) پانی نالیوں کے لیکج اور چوری کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے جسے فوری روکنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ زیرِ زمین پانی کا 90 فیصد سے زیادہ استعمال کرتا ہے جبکہ انڈس بیسن میں آبپاشی کی 60 فیصد سے زیادہ ضروریات پمپنگ کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ پنجاب میں زرعی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1994 میں 334,000 سے بڑھ کر 2024 میں 1.2 ملین سے زیادہ ہو گئی جو زمین سے سالانہ 51 ایم اے ایف پانی نکالتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پانی کی حد سے زیادہ نکاسی کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح زیادہ تر آبپاشی شدہ علاقوں میں 6 میٹر سے بھی نیچے جا چکی ہے۔

مزیدپڑھیں:پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے، ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،سینیٹرروبینہ خالد

انہوں نے پانی کے تحفظ کےلئے مختلف طریقے اپنانے کے علاوہ سیلابی نالوں، ویٹ لینڈز اور قدرتی گڑھوں کو پانی ذخیرہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ مستقبل میں پانی کے بحران سے بچا جا سکے۔قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیراحمد نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی کمی پاکستان کے عوام کےلئے سنگین مسئلہ ہے اور اسے قدرتی وسیلہ قرار دے کر ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پانی نہ صرف زندگی کےلئے ضروری ہے بلکہ پالیسی اور حکمرانی سے بھی جڑا ہوا ہے۔