مشرقِ وسطیٰ (Middle East) میں جاری کشیدگی کے اثرات اب عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ بھارت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ تازہ صورتحال نے بھارتی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ نے اس حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں نے پہلے ہی عام شہری کو معاشی مشکلات سے دوچار کر رکھا تھا، اور اب بیرونی حالات نے ان مسائل کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بھارت میں مزید تقریباً 25 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ملک میں غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر لگ بھگ 35 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر خطے کی صورتحال برقرار رہی تو بھارت کی خریف فصل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خوراک کی قلت کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران سے مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
معاشی سرگرمیوں پر بھی اس کے منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ کاروباری شعبہ دباؤ کا شکار ہے اور اندازہ ہے کہ تقریباً 90 فیصد ملازمتیں کسی نہ کسی حد تک خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارتی معیشت کی اندرونی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، خود انحصاری کے دعوے عملی طور پر کمزور ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ موجودہ پالیسیاں معیشت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خلیجی بحران نے بھارتی معیشت کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جہاں پائیدار پالیسیوں اور مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔












بدھ 15 اپریل 2026 